«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»امام حسینؑ کا شخصی اعلان یا اہل بیتِ نبوت ؐکا ابدی مؤقف؟

حوزہ/تاریخِ اسلام میں بعض کلمات ایسے ہیں جو کسی خاص زمانے، مقام یا شخصیت کی حدود سے بلند ہو کر ایک دائمی منشور اور ابدی معیار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان ہی میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا وہ عظیم اور فکر انگیز فرمان بھی ہے:«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»’’مجھ جیسا، اس جیسے کی بیعت نہیں کرتا۔‘‘

تحریر: مولانا تقی رضا رضوی کلکتوی

حوزہ نیوز ایجنسی|

مقدمہ

تاریخِ اسلام میں بعض کلمات ایسے ہیں جو کسی خاص زمانے، مقام یا شخصیت کی حدود سے بلند ہو کر ایک دائمی منشور اور ابدی معیار کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان ہی میں سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کا وہ عظیم اور فکر انگیز فرمان بھی ہے:«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»’’مجھ جیسا، اس جیسے کی بیعت نہیں کرتا۔‘‘

بظاہر یہ ایک مختصر جملہ ہے، لیکن اپنے اندر معارف، حقائق اور فکری جہات کا ایک وسیع جہان سموئے ہوئے ہے۔ افسوس کہ اس جملے کو اکثر محض ایک شخصی یا تاریخی ردعمل کے طور پر سمجھا گیا، گویا امام حسینؑ صرف یہ فرما رہے تھے کہ ’’میں یزید کی بیعت نہیں کروں گا‘‘، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

اگر امامؑ کا مقصد صرف اپنی ذات اور یزید کی ذات کے درمیان اختلاف کو بیان کرنا ہوتا تو آپؑ فرماتے:

«أنا لا أُبایع یزید»

لیکن آپؑ نے ایسا نہیں فرمایا بلکہ ایک کلی، ہمہ گیر اور جاودانی تعبیر اختیار فرمائی:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

گویا مسئلہ حسین بن علیؑ اور یزید بن معاویہ کے درمیان شخصی نزاع کا نہیں، بلکہ دو متضاد حقیقتوں، دو متقابل نظام ہائے فکر، دو مختلف تہذیبوں اور دو جداگانہ خطوطِ حیات کا ہے۔

«مِثْلِي» کی تفسیر خود امام حسینؑ کی زبان سے

جب ولید بن عتبہ، یزید کے حکم پر امام حسینؑ سے بیعت لینے کے لیے آیا تو امامؑ نے فرمایا:

«إنّا أهلُ بيتِ النبوّة، ومعدنُ الرسالة، ومختلفُ الملائكة، وبنا فتح الله وبنا يختم الله، ويزيد رجلٌ فاسق، شاربُ الخمر، قاتل النفس المحرّمة، معلنٌ بالفسق، ومِثلي لا يبايع مثله.»

اس جواب میں درحقیقت امامؑ نے خود «مِثْلِي» اور «مِثْلَهُ» کی تفسیر بیان فرمادی۔

«مِثْلِي» صرف حسین بن علیؑ کی انفرادی شخصیت کا نام نہیں، بلکہ اہل بیتِ نبوت، معدنِ رسالت، مرکزِ نزولِ ملائکہ اور دینِ الٰہی کے محافظین کا عنوان ہے۔ اسی طرح «مِثْلَهُ» صرف یزید بن معاویہ کا نام نہیں، بلکہ فسق و فجور، ظلم و تعدی، تحریفِ دین، جبرو استبداد اور طاغوتی اقتدار کی نمائندگی کرنے والی ہر قوت اس کے مصادیق میں شامل ہے۔

پہلا باب

«مِثْلِي» سے مراد کون؟

بعض اہلِ علم نے «مِثْلِي» سے ہر اس صاحبِ ضمیر انسان کو مراد لیا ہے جو آزادی، عزت اور حق پسندی کا علمبردار ہو۔ اگرچہ یہ معنی اپنے مقام پر درست ہے، لیکن ایک دقیق تر اور گہری تفسیر یہ ہے کہ «مِثْلِي» سے مراد وہ نورانی ہستیاں ہیں جو عصمت، علم اور ہدایت میں امام حسینؑ کے ہم مرتبہ ہیں؛ یعنی دیگر ائمۂ اہل بیت علیہم السلام۔

اسی لیے امام حسینؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’حسین یزید کی بیعت نہیں کرے گا‘‘ بلکہ فرمایا:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

گویا اگر امیر المؤمنین علیؑ، امام حسن مجتبیٰؑ یا دیگر ائمۂ اہل بیتؑ بھی انہی حالات سے دوچار ہوتے تو ان کا موقف بھی یہی ہوتا، کیونکہ ان کا نور ایک، ان کا مقصد ایک اور ان کی رضا صرف رضائے الٰہی ہے۔

امیر المؤمنینؑ فرماتے ہیں:

«نَحْنُ شَجَرَةُ النُّبُوَّةِ وَمَعَادِنُ الْعِلْمِ وَيَنَابِيعُ الْحُكْمِ»

اور امام رضاؑ فرماتے ہیں:

«نَحنُ حُجَجُ الله في خلقه... ونحن كلمة التقوى والعروة الوثقى»

لہٰذا عاشورا میں بلند ہونے والی آواز صرف حسینؑ کی آواز نہیں تھی، بلکہ رسول اللہ ﷺ، امیر المؤمنینؑ، امام حسنؑ اور تمام ائمۂ اہل بیتؑ کے مشترکہ موقف کی آواز تھی۔

انکارِ بیعت؛ ایک سیاسی اختلاف یا ایک الٰہی موقف؟

بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ امام حسینؑ اور یزید کے درمیان نزاع اقتدار یا سیاسی رقابت کا مسئلہ تھا، حالانکہ امامؑ کے کلمات اس تصور کی نفی کرتے ہیں۔

امامؑ نے یزید کے شخص کے مقابل اپنی ذات کو نہیں رکھا، بلکہ ایک طرف اہل بیتِ نبوت اور دوسری طرف فسق و فجور کے نظام کو سامنے رکھا۔

لہٰذا انکارِ بیعت کسی حکومت کے حصول کے لیے نہیں تھا بلکہ دین کی حفاظت، امت کی بیداری اور حق و باطل کے درمیان خطِ امتیاز قائم رکھنے کے لیے تھا۔

اگر کربلا نہ ہوتی تو؟

یہ سوال نہایت اہم اور قابلِ غور ہے کہ اگر امام حسینؑ کربلا نہ جاتے یا حالات مختلف ہوتے تو کیا وہ یزید کی بیعت کر لیتے؟

جواب خود امامؑ کے فرمان میں موجود ہے۔

امامؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’اس وقت اور ان حالات میں میں بیعت نہیں کروں گا‘‘ بلکہ فرمایا:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

یعنی یہ ایک وقتی یا جغرافیائی فیصلہ نہیں بلکہ ایک اصولی اور ابدی موقف ہے۔

پس اگر کربلا نہ بھی ہوتی، اگر مقام بدل جاتا، اگر زمانہ بدل جاتا، تب بھی حق باطل سے مصالحت نہ کرتا، کیونکہ نور اور ظلمت کبھی جمع نہیں ہوسکتے۔

چنانچہ اگر امیر المؤمنینؑ، امام حسنؑ، امام سجادؑ یا دیگر ائمۂ معصومینؑ بھی ایسے ہی حالات میں ہوتے تو ان کا موقف بھی یہی ہوتا، کیونکہ اہل بیتؑ کی حقیقت ایک، ان کا مشن ایک اور ان کا ہدف ایک ہے۔

دوسرا باب

«مِثْلَهُ» سے مراد کون؟

یزید ایک شخص نہیں، ایک فکر، ایک نظام اور ایک طرزِ حکومت کا نام ہے

امام حسین علیہ السلام کے تاریخی فرمان«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» میں جس قدر اہمیت لفظ «مِثْلِي» کی ہے، اسی قدر اہم اور قابلِ غور لفظ «مِثْلَهُ» بھی ہے۔ کیونکہ جب تک «مِثْلَهُ» کی حقیقت واضح نہ ہو، اس عظیم اعلان کی وسعت اور ابدیت بھی پوری طرح آشکار نہیں ہوسکتی۔

بظاہر «مِثْلَهُ» کا مصداق یزید بن معاویہ ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امام حسینؑ کا انکار صرف یزید نامی ایک شخص کے خلاف تھا یا اس سے بڑھ کر ایک فکر، ایک نظام اور ایک باطل طرزِ حکومت کے خلاف تھا؟

امامؑ کے اپنے کلمات اس سوال کا جواب فراہم کرتے ہیں۔ جب ولید بن عتبہ نے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا تو امامؑ نے فرمایا:

«وَيَزِيدُ رَجُلٌ فَاسِقٌ، شَارِبُ الْخَمْرِ، قَاتِلُ النَّفْسِ الْمُحَرَّمَةِ، مُعْلِنٌ بِالْفِسْقِ»

اس عبارت میں امامؑ نے یزید کے نسب، خاندان یا ذاتی دشمنی کو موضوع نہیں بنایا بلکہ اس کی صفات کو بیان فرمایا۔ گویا مسئلہ یزید کی ذات نہیں بلکہ فسق، ظلم، جبر، تحریفِ دین، قتلِ ناحق اور علانیہ گناہ کی حکومت ہے۔

اس اعتبار سے «مِثْلَهُ» ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک فکر کا نام ہے۔

یزیدیت؛ ایک دائمی انحراف

اگر یزید صرف ایک فرد کا نام ہوتا تو اس کی موت کے ساتھ یزیدیت بھی ختم ہوجاتی، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ظلم، استبداد، تحریفِ دین اور اقتدار پرستی مختلف شکلوں میں ہمیشہ موجود رہے ہیں۔

بنو امیہ کے بعد بنو عباس نے اقتدار سنبھالا، نام بدل گئے لیکن ظلم کا مزاج باقی رہا۔ اہل بیت علیہم السلام پر مظالم کا سلسلہ جاری رہا، حق کو دبانے اور دین کو سیاست کا آلہ بنانے کی روش برقرار رہی۔

اسی لیے یزید، ہشام، منصور، ہارون، متوکل اور مأمون کے درمیان اگرچہ زمانی فاصلہ ہے، لیکن ظلم، استبداد اور اقتدار پرستی کے اعتبار سے ان کی حقیقت ایک ہے۔

جس طرح اہل بیتؑ کا نور ایک ہے، اسی طرح باطل کی حقیقت بھی ایک ہے، اگرچہ اس کے چہرے اور نام بدلتے رہتے ہیں۔

حق اور باطل کی کشمکش؛ افراد کی نہیں، دو تہذیبوں کی جنگ

کربلا درحقیقت دو افراد کے درمیان معرکہ نہیں تھا بلکہ دو تہذیبوں اور دو نظام ہائے فکر کے درمیان فیصلہ کن جنگ تھی۔

ایک طرف وہ مکتب تھا جو نبوت، عدالت، اخلاق، کرامتِ انسانی اور رضائے الٰہی کا نمائندہ تھا، اور دوسری طرف وہ اقتدار تھا جو دین کو حکومت کے تحفظ کا ذریعہ اور امت کو اپنی خواہشات کا غلام بنانا چاہتا تھا۔

اس لیے امام حسینؑ کا انکارِ بیعت ایک سیاسی اختلاف نہیں تھا، بلکہ دین اور سلطنت، عدالت اور جبر، حق اور باطل کے درمیان خطِ امتیاز قائم کرنے کا نام تھا۔

بنو امیہ اور بنو عباس؛ دو نام، ایک حقیقت

تاریخ کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ ظلم ہمیشہ ایک ہی لباس میں ظاہر نہیں ہوتا۔

بنو امیہ نے اہل بیتؑ کے خلاف تلوار اٹھائی، جبکہ بنو عباس نے بعض اوقات اہل بیتؑ سے محبت کے نعروں کے ذریعے اقتدار حاصل کیا، لیکن جب حکومت ان کے ہاتھ میں آئی تو وہی ظلم، وہی جبر اور وہی استبداد ایک نئے چہرے کے ساتھ ظاہر ہوا۔

اس لیے جرم و جنایت کے اعتبار سے یزید اور متوکل، ہشام اور منصور، ہارون اور مأمون میں بنیادی فرق نہیں، کیونکہ باطل کی اصل حقیقت اقتدار پرستی اور حق سے دشمنی ہے، نہ کہ صرف کسی خاندان یا زمانے کا نام۔

عصر حاضر میں «مِثْلَهُ» کے مصادیق

امام حسینؑ کا پیغام صرف پہلی صدی ہجری کے لیے نہیں تھا۔ ہر دور میں جب دین کو اقتدار کا ذریعہ بنایا جائے، جب ظلم کو قانون کا نام دیا جائے، جب حق کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی جائے، جب انسانی کرامت کو پامال کیا جائے، جب مفاد کو اصولوں پر ترجیح دی جائے، وہاں یزیدیت اپنی نئی شکل میں موجود ہوتی ہے۔

اسی طرح ہر دور میں وہ آوازیں بھی باقی رہتی ہیں جو عزت، آزادی، عدالت اور حق کی حفاظت کے لیے قربانی دینے پر آمادہ ہوتی ہیں، اور یہی حسینی فکر کا تسلسل ہے۔لہٰذا «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» محض ایک تاریخی جملہ نہیں، بلکہ مشروعیتِ حکومت، دینی قیادت، انسانی کرامت اور ظلم کے خلاف مزاحمت کا ایک دائمی معیار ہے۔

یہ اعلان دراصل ہر دور کے انسان کو یہ پیغام دیتا ہے کہ باطل اگرچہ طاقتور ہوسکتا ہے، لیکن حق کبھی اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا؛ کیونکہ شبیہِ حسین، شبیہِ یزید کی بیعت نہیں کرسکتی۔

تیسرا باب

اگر کربلا نہ ہوتی تو کیا امام حسینؑ یزید کی بیعت کرلیتے؟

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»؛ ایک وقتی فیصلہ یا ایک ابدی اصول؟

واقعۂ کربلا کے حوالے سے ایک نہایت اہم اور فکر انگیز سوال یہ ہے کہ اگر امام حسین علیہ السلام کربلا نہ جاتے، یا حالات کسی اور رخ پر استوار ہوتے، تو کیا آپؑ یزید بن معاویہ کی بیعت قبول کر لیتے؟ کیا انکارِ بیعت ایک وقتی، سیاسی اور مخصوص حالات کا نتیجہ تھا، یا یہ ایک اصولی، اعتقادی اور ماورائے زمان و مکان موقف تھا؟

اس سوال کا جواب خود امام حسینؑ کے الفاظ میں پوشیدہ ہے۔

امامؑ نے یہ نہیں فرمایا کہ ’’میں اس وقت یزید کی بیعت نہیں کروں گا‘‘ یا ’’موجودہ حالات میں اس کی حکومت کو قبول نہیں کرتا‘‘، بلکہ آپؑ نے ایک کلی اور دائمی اصول بیان فرمایا:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

گویا مسئلہ کسی خاص وقت، مقام یا سیاسی حالات کا نہیں بلکہ دو متضاد حقیقتوں کا ہے۔ جس طرح نور اور ظلمت جمع نہیں ہوسکتے، اسی طرح امامت اور فساد، ہدایت اور ضلالت، حق اور باطل کے درمیان مصالحت بھی ممکن نہیں۔

انکارِ بیعت؛ جغرافیہ کا نہیں، عقیدہ اور ضمیر کا مسئلہ

بعض لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ کربلا نے امام حسینؑ کو اس نہج پر پہنچایا کہ آپؑ نے یزید کے خلاف قیام کیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کربلا، انکارِ بیعت کا سبب نہیں تھی بلکہ انکارِ بیعت، کربلا کا سبب بنا۔

یعنی پہلے اصول تھا اور بعد میں قربانی آئی؛ پہلے موقف تھا اور پھر عاشورا برپا ہوا۔ اگر امام حسینؑ مدینہ میں رہتے، مکہ میں قیام فرماتے یا دنیا کے کسی اور خطے میں ہوتے، تب بھی «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» کی حقیقت تبدیل نہ ہوتی۔

اس لیے کربلا ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے، اور عاشورا ایک دن نہیں بلکہ ایک دائمی موقف کا نام ہے۔

اگر امیر المؤمنینؑ یا امام حسنؑ ہوتے؟

یہاں ایک اور اہم نکتہ قابلِ توجہ ہے۔ امام حسینؑ نے یہ نہیں فرمایا: «أنا لا أبايع مثله» بلکہ فرمایا: «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»۔

اس تعبیر میں ایک نہایت گہرا راز پوشیدہ ہے۔

گویا امام حسینؑ صرف اپنی ذات کی ترجمانی نہیں کر رہے بلکہ اس نورانی سلسلے کی نمائندگی فرما رہے ہیں جسے قرآن نے «أَهْلَ الْبَيْتِ» قرار دیا اور رسول خدا ﷺ نے جنہیں ہدایت کا محور قرار دیا۔

اس اعتبار سے اگر امیر المؤمنین علیؑ، امام حسن مجتبیٰؑ، امام زین العابدینؑ، امام باقرؑ یا دیگر ائمۂ معصومینؑ بھی انہی حالات سے دوچار ہوتے تو ان کا موقف بھی یہی ہوتا، کیونکہ ان کی حقیقت ایک، ان کا علم ایک، ان کا مقصد ایک اور ان کی رضا صرف رضائے الٰہی ہے۔

پس «مِثْلِي» سے مراد صرف ایک فرد نہیں بلکہ حقیقتِ واحدۂ اہل بیتؑ ہے، اور «مِثْلَهُ» سے مراد بھی صرف یزید نہیں بلکہ ہر وہ نظام ہے جو فسق، ظلم، تحریفِ دین اور استبداد کی بنیاد پر قائم ہو۔

امام حسنؑ کا صلح نامہ اور امام حسینؑ کا قیام

بعض لوگ امام حسنؑ کی صلح اور امام حسینؑ کے قیام کو ایک دوسرے کے متضاد قرار دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں دونوں کا مقصد ایک تھا۔

امام حسنؑ نے حق کو محفوظ کرنے کے لیے صلح کو ذریعہ بنایا اور امام حسینؑ نے اسی حق کی حفاظت کے لیے شہادت کو اختیار فرمایا۔

صلح اور قیام دو مختلف طریقے ہوسکتے ہیں، لیکن اہل بیتؑ کا ہدف ہمیشہ ایک رہا ہے۔

اسی لیے اگر امام حسنؑ کربلا میں ہوتے تو وہی کرتے جو امام حسینؑ نے کیا، اور اگر امام حسینؑ صلح کے انہی حالات سے دوچار ہوتے جن سے امام حسنؑ گزرے تھے تو وہ بھی وہی فیصلہ فرماتے جو امام حسنؑ نے فرمایا۔

اختلاف حالات میں تھا، اختلاف مقصد میں نہیں تھا۔

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»؛ ایک دائمی معیار

اس فرمان کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ حق، باطل کو مشروعیت نہیں دے سکتا؛ امامت، ضلالت کے سامنے سر نہیں جھکا سکتی؛ اور نور، ظلمت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتا۔

اسی لیے امام حسینؑ کا انکارِ بیعت کوئی وقتی سیاسی احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک ابدی معیار کا اعلان تھا، تاکہ قیامت تک آنے والے انسان جان لیں کہ اصول، مصلحتوں پر قربان نہیں کیے جاتے اور عزت، ذلت کے ہاتھ فروخت نہیں کی جاتی۔

چنانچہ اگر کربلا نہ بھی ہوتی، اگر عاشورا کا دن نہ آتا، اگر نینوا کی سرزمین نہ ہوتی، تب بھی حسینؑ، حسینؑ ہی رہتے اور یزید، یزید ہی رہتا، اور «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» کا ابدی اعلان اپنی پوری قوت کے ساتھ باقی رہتا۔

کیونکہ عاشورا ایک حادثہ نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے؛ اور کربلا ایک سرزمین نہیں، بلکہ ضمیرِ انسانی کی ابدی آواز ہے۔

چوتھا باب

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»؛ مشروعیتِ حکومت، ظلم کے خلاف مزاحمت اور عصر حاضر میں حسینی فکر

کربلا کا سب سے بڑا پیغام صرف یہ نہیں کہ امام حسینؑ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ حکومت اور اقتدار کی مشروعیت کا معیار کیا ہے؟ کیا محض طاقت، وراثت، اکثریت یا غلبہ کسی حکومت کو حق و باطل کا معیار بنا سکتا ہے، یا اس کے لیے عدل، تقویٰ، حق پسندی اور رضائے الٰہی ضروری ہیں؟

امام حسینؑ کے موقف سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اسلام میں ہر طاقت مشروع نہیں اور ہر حکومت واجب الاطاعت نہیں۔ اگر اقتدار ظلم، فسق، تحریفِ دین، انسانی کرامت کی پامالی اور حق کشی کا ذریعہ بن جائے تو اس کی اطاعت دین نہیں بلکہ ظلم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

اسی لیے امام حسینؑ نے یزید کے مقابلے میں صرف اپنی شخصیت کو نہیں بلکہ اہل بیتِ نبوت اور معدنِ رسالت کو پیش کیا، تاکہ امت یہ سمجھ لے کہ حکومت کی مشروعیت تلوار، وراثت اور سیاسی غلبے سے نہیں بلکہ حق، عدالت اور الٰہی اقدار سے وابستہ ہے۔

بیعت؛ صرف سیاسی معاہدہ نہیں، فکری اور اخلاقی تائید ہے

امام حسینؑ کے نزدیک بیعت صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھ دینے کا نام نہیں تھا، بلکہ ایک نظام، ایک فکر اور ایک طرزِ زندگی کی توثیق کا نام تھا۔ یزید کی بیعت کا مطلب صرف ایک شخص کی حکومت کو قبول کرنا نہیں تھا، بلکہ فسق، ظلم، تحریفِ دین اور استبداد کو شرعی جواز عطا کرنا تھا۔

اسی لیے امامؑ نے جان کی قربانی قبول کرلی، مگر باطل کو مشروعیت دینے پر آمادہ نہ ہوئے۔

ہر دور کا یزید اور ہر دور کا حسین

یزید ایک شخص تھا، لیکن یزیدیت ایک فکر ہے؛ اور حسینؑ ایک شخصیت ہیں، لیکن حسینیت ایک مکتب ہے۔

جہاں ظلم ہے، وہاں یزیدیت ہے۔

جہاں حق کے لیے قربانی ہے، وہاں حسینیت ہے۔

جہاں ضمیر فروشی ہے، وہاں یزیدیت ہے۔

جہاں عزت و حریت کی حفاظت ہے، وہاں حسینیت ہے۔

اسی لیے عاشورا صرف سن 61 ہجری کا واقعہ نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کی دائمی کشمکش کا نام ہے۔

عزاداری کا اصل پیغام

اگرچہ اشکِ حسینؑ، مجالسِ عزا اور شعائرِ حسینی ایمان و محبت کی عظیم علامتیں ہیں، لیکن ان کا حقیقی مقصد صرف گریہ نہیں بلکہ حسینی شعور، ظلم سے نفرت، حق سے وابستگی، اصلاحِ معاشرہ اور انسانی کرامت کا احیاء ہے۔

عزاداری، «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» کے عملی پیغام کو نسل در نسل منتقل کرنے کا نام ہے۔

پانچواں باب

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» اور عصرِ غیبت میں امت کی ذمہ داریاں

عاشورا؛ ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ شعور

اگر «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» صرف سن 61 ہجری کا ایک سیاسی اعلان ہوتا تو اس کی حیثیت ایک تاریخی واقعے سے زیادہ نہ ہوتی، لیکن چونکہ یہ حق و باطل، نور و ظلمت، عدل و استبداد اور ہدایت و ضلالت کے درمیان ایک دائمی خطِ امتیاز ہے، اس لیے اس کا پیغام ہر دور اور ہر نسل کے لیے زندہ اور مؤثر ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے صرف ایک جابر حکمران کی بیعت سے انکار نہیں کیا بلکہ امت کو یہ شعور عطا فرمایا کہ باطل کو مشروعیت دینا، ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اور ذاتی مفادات کی خاطر حق کا سودا کرنا، ایک مومن اور صاحبِ ضمیر انسان کے شایانِ شان نہیں۔

عصرِ غیبت اور حسینی ذمہ داری

آج اگرچہ ظاہری طور پر امام معصومؑ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں، لیکن ان کا پیغام، ان کی سیرت اور ان کی تعلیمات امت کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں۔ عصرِ غیبت میں «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» کا تقاضا یہ نہیں کہ ہر شخص تلوار اٹھائے، بلکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ امت اپنی فکری، اعتقادی، اخلاقی اور سماجی شناخت کو محفوظ رکھے اور ہر اس چیز سے اجتناب کرے جو باطل، ظلم، جہالت اور دین کی تحریف کا ذریعہ بنے۔

حسینی فکر کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان:

* حق اور باطل کے درمیان تمیز کی صلاحیت پیدا کریں۔

* ظلم، فساد اور فکری انحراف کے مقابلے میں خاموش تماشائی نہ بنیں۔

* دین کو اقتدار، تعصب اور دنیا طلبی کا ذریعہ بنانے والوں سے ہوشیار رہیں۔

* اپنی نسلوں میں شعورِ عاشورا، محبتِ اہل بیتؑ اور روحِ حریت کو منتقل کریں۔

* عزاداری کو محض جذباتی مراسم نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ، بیداریِ امت اور احیائے دینی اقدار کا وسیلہ بنائیں۔

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»؛ ایک تہذیبی منشور

امام حسینؑ کا یہ فرمان محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی اور تمدنی منشور ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ اصولوں کی حفاظت مصلحتوں سے زیادہ اہم ہے، اور عزتِ نفس دنیاوی منفعت سے کہیں بلند تر ہے۔

یہ اعلان انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ حق کی حمایت اور باطل کی مخالفت صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ قلم، زبان، فکر، تعلیم، تربیت، ثقافت اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں ضروری ہے۔

نتیجہ

امام حسینؑ کا فرمان:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

درحقیقت خاندانِ نبوت اور ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کے مشترکہ موقف کا اظہار ہے، جو ہر دور میں حق و باطل کے درمیان ایک روشن معیار فراہم کرتا ہے۔

یہ جملہ کسی فرد کے مقابل کسی فرد کا اعلان نہیں، بلکہ نور اور ظلمت، عدالت اور استبداد، ہدایت اور ضلالت کے درمیان ایک ابدی اور ناقابلِ مصالحت حدِ فاصل ہے۔

اگر کربلا نہ بھی ہوتی، تب بھی حسینؑ، حسینؑ ہی رہتے اور یزید، یزید ہی رہتا، کیونکہ مسئلہ زمین اور زمانے کا نہیں بلکہ حقیقتوں کا تھا۔

اسی لیے «مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ» صرف عاشورا کا شعار نہیں، بلکہ قیامت تک تمام آزاد، باوقار اور حق شناس انسانوں کے لیے ایک زندہ پیغام ہے کہ:

باطل کے ساتھ مصالحت سے بہتر ہے حق کے ساتھ قربانی، اور ظلم کے سامنے سر جھکانے سے بہتر ہے عزت کے ساتھ جینا اور عزت کے ساتھ مرنا۔

یہی کربلا کا جوہر ہے، یہی حسینؑ کا پیغام ہے، یہی اہل بیتؑ کا مشترکہ موقف ہے، اور یہی انسانیت کی حقیقی آزادی کا منشور ہے۔

خاتمہ

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»؛ کربلا سے قیامت تک

کربلا صرف ایک سرزمین کا نام نہیں، عاشورا صرف ایک دن کا نام نہیں، اور امام حسین علیہ السلام کا قیام صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں؛ بلکہ یہ حق و باطل، نور و ظلمت، عزت و ذلت اور ہدایت و ضلالت کے درمیان ایک ابدی معرکہ اور دائمی معیار کا نام ہے۔

امام حسینؑ نے یزید کے سامنے صرف بیعت سے انکار نہیں کیا، بلکہ امت کے ضمیر کو بیدار کیا، تاریخ کے رخ کو بدل دیا اور انسانیت کو یہ سبق دے دیا کہ طاقت، غلبہ، اکثریت اور جبر کبھی حق و باطل کا معیار نہیں بن سکتے۔ حق، حق ہی رہتا ہے اگرچہ تنہا ہو، اور باطل، باطل ہی رہتا ہے اگرچہ اقتدار، دولت اور تلوار اس کے ہاتھ میں ہو۔

اسی لیے امام حسینؑ نے یہ نہیں فرمایا:«أنا لا أبايع يزيد»بلکہ فرمایا:«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

گویا حسینؑ ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بول رہے تھے، بلکہ شجرۂ نبوت، معدنِ رسالت، مرکزِ نزولِ ملائکہ اور سلسلۂ امامت کی نمائندگی کرتے ہوئے اعلان فرما رہے تھے کہ نور کبھی ظلمت سے مصالحت نہیں کرسکتا، حق کبھی باطل کو مشروعیت نہیں دے سکتا اور اہلِ ہدایت کبھی اہلِ ضلالت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرسکتے۔

اگر کربلا نہ بھی ہوتی، اگر نینوا کی سرزمین نہ ہوتی، اگر عاشورا کا دن نہ آتا، تب بھی حسینؑ، حسینؑ ہی رہتے اور یزید، یزید ہی رہتا، کیونکہ یہ معرکہ زمینوں کا نہیں بلکہ حقیقتوں کا تھا؛ یہ جنگ اشخاص کی نہیں بلکہ افکار، اقدار اور اصولوں کی تھی۔

اسی لیے عاشورا ختم نہیں ہوا، کربلا ماضی کا قصہ نہیں بنی، اور حسینؑ کا پیغام تاریخ کے صفحات میں دفن نہیں ہوا، بلکہ ہر دور میں جب ظلم نے سر اٹھایا، جب دین کو اقتدار کا آلہ بنایا گیا، جب حق کو مصلحتوں کے بازار میں فروخت کرنے کی کوشش کی گئی، تب تب کربلا نے ایک بار پھر انسانیت کو آواز دی:

«أَلَا وَإِنَّ الدَّعِيَّ ابْنَ الدَّعِيِّ قَدْ رَكَزَ بَيْنَ اثْنَتَيْنِ؛ بَيْنَ السِّلَّةِ وَالذِّلَّةِ، وَهَيْهَاتَ مِنَّا الذِّلَّةُ»

اور اس آواز کے ساتھ ضمیرِ انسانی میں ہمیشہ کے لیے یہ ابدی نغمہ ثبت ہوگیا:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

یہ حسینؑ کی آواز ہے، مگر صرف حسینؑ کی نہیں؛

یہ رسول ِ خدا ؐ کی آواز ہے ؛

یہ علیؑ مرتضی ؑ کی آواز ہے؛

یہ حسنؑ مجتبی کی آواز ہے؛

یہ زینبؑ کبری ٰؑے صبر کی صدا ہے؛

یہ سجادؑ الساجدین ؑکی دعا کا پیغام ہے؛

یہ باقرؑ و صادقؑ کے علم کی روشنی ہے؛

یہ تمام ائمۂ اہل بیتؑ اور یہ منتقم ِ خون حسینؑ حضرت حجت ؑکے مشترکہ موقف کا اعلان ہے۔

یہ ہر اس انسان کی آواز ہے جس کا ضمیر زندہ ہے، جس کی غیرت بیدار ہے، جس کا ایمان زندہ ہے اور جس کے نزدیک عزت، حق اور کرامتِ انسانی دنیا کے تمام مفادات سے زیادہ قیمتی ہیں۔

لہٰذا کربلا کا پیغام صرف اشک بہانا نہیں، بلکہ شعور حاصل کرنا ہے؛ صرف ماتم کرنا نہیں، بلکہ ظلم کے خلاف بیدار رہنا ہے؛ صرف حسینؑ سے محبت کا دعویٰ کرنا نہیں، بلکہ حسینی اصولوں پر زندگی گزارنا ہے۔

کیونکہ حسینؑ نے ہمیں یہ سکھایا کہ:

سر کٹایا جاسکتا ہے، مگر ضمیر نہیں بیچا جاسکتا؛

جان قربان کی جاسکتی ہے، مگر حق کو باطل کے ہاتھ فروخت نہیں کیا جاسکتا؛

وقت کے یزید بدل سکتے ہیں، مگر حسینؑ کا موقف نہیں بدلتا؛

حالات بدل سکتے ہیں، مگر حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل باقی رہتی ہے۔

اور یہی عاشورا کا ابدی سبق، یہی اہل بیتؑ کا مشترکہ موقف، اور یہی انسانیت کی حقیقی آزادی کا منشور ہے۔

سلام ہو اس حسینؑ پر، جس نے عزت کو حیات بخشی؛

سلام ہو اس خونِ مظلوم پر، جس نے حق کو بقا عطا کی؛

اور سلام ہو اس ابدی اعلان پر، جس کی گونج آج بھی زمانے کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے:

«مِثْلِي لَا يُبَايِعُ مِثْلَهُ»

شبیہِ حسینؑ، شبیہِ یزید کی بیعت نہیں کرسکتی۔

منبع و ماخذ/بنیادی مصادر

نہج البلاغہ

الإرشاد، شیخ مفید

اللہوف، سید ابن طاؤوس

تاریخ الطبری

الفتوح، ابن اعثم کوفی

بحار الأنوار، علامہ مجلسی

مقتل الحسینؑ، خوارزمی

مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha